بیمہ پالیسی
بیمہ پالیسی
مملکت خداد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بیمہ پالیسی
جہاں اندھیر نگری چوپٹ راج ہو، جنگل کا قانون ہو، قانون کی کوئی بالا دستی نہ ہو ، طاقت ور ، بالا دست اور طبقہ اشرافیہ کے لیے کوئی اور قانون، غریب اور کمزور کیلیے کوئی اور قانون ، با اثر لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو، , کمزور کی کوئی داد رسی نہ ہو، انصاف کا حصول نہایت مہنگا، تکلیف دہ اور نہایت مشکل ہو، پولیس بااثر لوگوں کی لونڈی اور مجرموں کی سرپرست ہو، کوئی اٹھاکے لیجائے تو گھروالے زندگی بھر ڈھونڈتے رہیں کوئی مارجائے تو زندگی بھر روتے رہیں ۔ جان و مال کا کوئی تحفظ نہ ہو ، نہ حال محفوظ نہ مستقبل، تیز رفتاری اور جنونی انداز میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے کوئی مارجائے ، زخمی یا معزور کرجائے تو روتے رہو زندگی بھر، کسی خطرناک یا جان لیوا بیماری کا شکار ہوجائے تو سرکاری سطح پر دھکے کھانے کے سوا کوئی امید درماں نہیں - مگر یہ سب اندھیرے غریب اور کمزور کیلئے ہیں دولت مند، بااثر و طاقت ور امراء و رؤسا اور صاحب اقتدار لوگوں کا ان مشکلات سے کوئی تعلق نہیں-
پھر ایک کمزور و ناتواں شخص کیا کرے ، تو میرے دوست ایک سچائی اور حقیقت تو یہ ھے کہ جس طرح جنگل میں بھیڑ بکریاں، ہرن، خرگوش اور دوسرے چھوٹے جانور صبح سے شام تک اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہتے ہیں اور کسی وقت بھی لقمہ اجل بن جاتے ہیں بس اسی طرح آپ بھی اپنی بقا کی جنگ لڑتے رہیں لیکن اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک امید کی کرن ھے اس قدر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں - ایک ذات اور بھی ھے سب سے طاقت ور اور سب سے عظیم تر اور وہ ھے خالق کائنات قادرمطلق بس اس سے رجوع کرلیں اور اپنا معاملہ اس کے سپرد کردیں-
ذیل میں چند خاص دعائیں درج ہیں ، باقائدگی کے ساتھ صبح شام انہیں پڑھنے کا معمول بنالیجیے اور صبح سے شام اور شام سے صبح تک کا اپنا بیمہ کرالیجیے اللہ رب العزت کے حضور، لیکن ایمان اور یقین شرط ھے-