issue

in education •  2 years ago 

میر جی کیا سادہ ہیں کہ بن کے ڈاکٹر بھی
انہی عطار کے لؤنڈوں سے دوا لیتے ہیں
آپ تو ابن صفی کو لے کے بیٹھ ہی گئے ہیں، خیر نوسٹلجیا اچھی یاداشت والوں کو زیادہ تنگ کرتا ہے، وحی وہانوی کے ناول گھر لانا ہمارے زمانے میں نیم خود کشی کی کوشش کے مترادف تھا
صداقت شاہ کی لائبریری لے تھلے پے پڑے موڑھے پے بیٹھ کے پڑھنے میں شلواری انتشار کا مسئلہ کھڑا ہوتا ، تو وہانوی والی کتاب زیر ناف اڑس کے پردہ اور پوشیدگی قائم رکھتے ابن صفی کا رسالہ اور ایک نسیم حجازی کا ناول ہاتھ میں لئے گھر کے صحن کی پل صراط طے کرتے اپنے کوٹھا نما کمرے تک پہنچنا وظیفہ کا امتحان پاس کرنا ہوتا، رات کو باہر کھٹک ہوتی تو وہانوی بیچارہ فوری طور چارپائی کی دری یا تلائ کے نیچے اور ابن صفی ہماری گودی چڑھ جاتا، اس مجبوری سے ہم نے بھی ڈاکڑ دعا گو جلدی ناول سمیت عمران سیریز ، کے سلمان و جوزف کے ہمراہ جولیا سے ہم بستری کی، شرلاک ہومز۔ پیٹرسن کی جگہ فریدی اور حمید کی بک بک پڑھی، اس وقت بھی آئ ایس آئ میں انکل اور کزن تھے، لیکن اس جاسوسی ادب کا اس ادارے سے دور دور
کا کوئ تعلق نہی تھا، ہاں پاک بھارت دونوں میں کتب و رسائل اور فلمیں آسانی سے آتی جاتی تھیں،
اسرار احمد بھی ہم سے بچ نکلے ورنہ ہم نے نسیم حجازی سے پنڈی میں ملاقات کی تھی، کرنل محمدخان، صدیق سالک ضمیر جعفری سے ہم ایسے ملتے جیسے اداکارہ فردوس، عالیہ اور زیبا و محمد علی سے ملنے چلے جاتے تھے،
اب یہ ہمارے آج کے فیس بکی ڈھومر اسے لمبی ہانک سمجھیں گے، کہ انہوں نے نہ قصائ گلی دیکھی نہ ہیرا منڈی میں مجرا سنا
فرق بہت ہے ان کے ہاتھ میں فون وہ بھی سمارٹ اور ہمارا بائیاں ہاتھ اکثر شلوار کے اندر یا پینٹ کی جیب میں عضو ثقیف کو تھامے رکھتا ،، آپ ان پے بے جا غصہ کرنا چھوڑ دیں،،
aas.png

Authors get paid when people like you upvote their post.
If you enjoyed what you read here, create your account today and start earning FREE STEEM!