بھیڑ کی اون کٹائی
سٹیم کے دوستوں السلام علیکم سناؤ دوستو اپ سب کا کیسا حال چال ہے امید کرتا ہوں کہ اپ سب دوست خیر و عافیت سے ہوں گے اللہ پاک کہ فضل اور کرم اور اپ سب کی دعاؤں سے میں بھی ٹھیک ہوں دوستو جب سویرے میری انکھ کھلی تو اس وقت پانچ بج کر 20 منٹ تھے میں اٹھ کر واش روم گیا اور منہ ہاتھ دھو کر وضو کیا اور پھر دو رکعت نماز سنت گھر پر ادا کر کہ باجماعت نماز ادا کرنے کے لیے مسجد میں چلا گیا نماز ادا کرنے کے بعد اج موسم ٹھنڈا اور بہت ہی خوشگوار تھا تو میں نے واقعی واک کر کے جب میں گھر واپس ایا تو ناشتہ تیار ہوا پڑا تھا میں ناشتہ کرنے لگا اور اس کے بعد میں کمرے میں جا کر موبائل کو چارجنگ پر لگایا تو باہر دروازے پر د ستک ہوئی جب میں نے باہر جا کر دیکھا تو بھیڑ کی اون کاٹنے والا ایا ہوا تھا میں نے اس کو بھیڑ چھوڑ کر دی اور وہ گیٹ کے سامنے ہی بھیڑ کی اون کاٹنے لگا پھر میں گھر گیا اور اس کے لیے چائے لے کر ایا اس نے بھیڑ کو زمین پر لٹا کر کاٹنا شروع کر دی پہلے ایک طرف سے اون کاٹی اور پھر بھیڑ کو دوسری طرف لٹا کر اون کاٹنے لگا جب اس نے بھیڑ کی اون کاٹ لی تو ان کو ایک گٹو میں ڈالا اور پھر میں نے اس کو 250 روپے مزدوری بھی دی جس سے وہ بہت ہی زیادہ خوش ہو گیا پھر میں نے اپنے گھر میں بھیڑ کو باندھا اور پھر واش روم میں جا کر نہانے لگا نہا کر میں نے کپڑے تبدیل کیے اور دکان پر چلا گیا میں نہیں جا کر دکان کھولی اور اس کی صفائی کی جب مکینک دکان پر ایا تو میں نے کبوتروں کو دانہ پانی ڈالنے کے لیے چھت پر چلا گیا میں نے جا کر کبوتروں کو دانہ پانی ڈالا اور پھر دکان پر ا کر بیٹھ گیا ایک بجے میں نے دکان بند کی اور گھر ا کر روٹی کھائی اور پھر نماز ظہر ادا کر کے ٹی وی دیکھنے لگا سر کی نماز کے بعد میں کبوتروں کی چھت پر گیا اور کبوتروں کو دانہ پانی ڈالا اور پھر میں محمد یار والا میں چلا گیا جو کہ ہمارے شہر سے پانچ چھ کلومیٹر دور ہے
جہاں پر چاولوں کی بہت ہی زیادہ کاشت کی جاتی ہے وہاں جا کر میں نے اپنے چاول کاٹنے کے لیے مزدوروں کا پتہ کیا مگر مجھے وہاں سے کوئی مزدور نہیں ملا واپسی پر میں نے ایک دوست کو کال کی جو کہ چاولوں کی بہت زیادہ کاشت کرتا ہے اس کو میں نے اپنے چاول کاٹنے کے لیے مزدوروں کا بندوبست کر دینے کے لیے کہا تو اس نے مجھے کافی زیادہ یقین دہانی کرائی کہ میں اپ کے چاولوں کو کاٹنے کے لیے مزدوروں کا بندوبست کرتا ہوں پھر میں جاؤں گھر واپس ایا تو اس وقت مغرب کی اذان ہو رہی تھی میں نے وضو کیا اور نماز مغرب ادا کر کے روٹی کھائے اور پھر اپنے کمرے میں جا کر بستر پر لیٹ گیا اور اج کی ڈائری لکھنے لگا امید کرتا ہوں کہ اپ سب دوستوں اور بھائیوں کو میری اج کی یہ ڈیری پسند ائے گی
گرمیوں میں اون کٹوانی چاہیے