some isses
ر الحمداللہ مجهے اس فتنے کے دنیا سے جانے پر خوشی ہے :
ظالم کی موت پر خوشی جائز بلکہ سنت ہے:
سرکش اور کفار کی طرف میلان رکھنے والے ظالم حکمرانوں کی ہلاکت پر خوشی فطری بات ہے اور یہ سلف صالحین کی سنت ہے۔
جب مسیلمہ کذاب کی موت کی خبر آئی ابو بکر رضی اللہ عنہ سجدے میں گر گئے۔
جب خوارج میں سے ذا التدیّۃ کو مردہ پایا علی ابن ابی طالب سجدے میں گر گئے۔
حجاج بن یوسف کی موت پرامام النخعی سجدے میں گئے اور خوشی سے رونے لگے۔(السیر4/524 ) الذھبی۔
جب مشہور گمراہ المریسی کی موت کی خبر بازار میں بشر بن الحارث کو دی گئی تو کہا کہ یہ شہرت کی جگہ نہ ہوتی تو سجدہ شکر ادا کرتا ،اس کی موت پر الحمد للہ(تاریخ بغداد 7/66)۔
امام احمد بن حنبل سے کہا گیا کہ مشہور بدعتی ابن ابی داود کی موت پر خوشی منانا گناہ ہے ؟ فرمایا : اس پر کون خوش نہیں ہو گا ؟ (سیر اعلام النبلاء 9/435 ) " یہی وہ عبد المجید ابن عبد العزیزبن داود مرجیہ کا سرغنہ تھا"۔
جب وھب بن قریشی گمراہ کی موت کی خبر عبد الرحمن بن مہدی کو معلوم ہوئی تو کہا : اللہ کا شکر ہے مسلمانوں کی جان چھوٹ گئی،(لسان المیزان ابن حجر 8/402 )۔
حافظ ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ 12 /338 میں ایک بڑے بدعتی کے بارے میں کہا ہے کہ اس ذی الحجہ کے مہینے میں اللہ نے مسلمانوں کو اس سے چھکارہ دیا اور جب اس کو دفنا یا گیا تمام مسلمانوں نے شکر ادا کیا ۔
اس لیے کسی ظالم سرکش اور کفار کے ایجنٹ حکمران کی موت پر خوشی فطری اور جائز ہے، اللہ ہمیں ان ظالموں اور جابروں کی حکمرانی سے نجات دے۔
source: https://www.siasat.pk/forum/showthread.php?609864-Eminent-lawyer-and-activist-Asma-Jahangir-passes-away/page4