روحانی سفر
جب تک نفس کثیف روشنیوں سے پاک نہیں ہو جاتا روحانی سفر کی ابتدا نہیں ہوتی انسان غیب میں داخل نہیں ہوسکتا۔
روحانی سفر نفس کے درجات میں صعود کرنا ہے اس کےلیئے لطیف انرجی درکار ہوتی ہے۔ لہٰذا جتنا ہم مادی دنیا میں یعنی اپنے بشری تقاضوں کو پورا کرنے میں مشغول رہتے ہیں اتنا ہی کثافت ہمارے اندر ذخیرہ ہوتی رہتی ہے اور ہم لطافت سے دور ہوتے جاتے ہیں۔اسلیئے ہم کبھی بھی روحانی پرواز کے قابل نہیں ہوتے۔
روحانیت یہ ہے کہ نفس کو مادے کے غلبہ سے پاک کیا جائے۔ یعنی ہم کثافت کو ہٹا کر لطافت کی طرف مائل ہوں۔ یہی تزکیہٴ نفس ہے کہ ہمارے اندر سے مادے کی چپک ختم ہو۔ انبیاء علیہم السلام نے عبادات کا جو نظام قائم کیا اس کی یہی وجہ تھی کہ انسان کا ذہن مادے میں، دنیا میں، ماحول میں، آل اولاد اور کام کاروبارمیں اٹکا رہتا ہے۔ کسی طرح سے اس کو اس ماحول سے نکال کر ایسی جگہ لے جایا جائے جہاں اس کا ذہن اللہ کی طرف متوجہ ہو
آپ نے بہت زبردست آ رٹیکل لکھا ہے