شفق زادی

in #poetry8 years ago

شفق زادی
وہ لڑکی جس کی قربت کی تمنا میں
کئی اوجھل مناظر خود کو اس کی بارگہ میں پیش کرتے تھے
سنا ہے آج کل
نزدیک کا چشمہ لگاتی ہے
وہ جس کی مہربانی سے
کبھی اس شہر میں قیمت بڑھا کرتی تھی پھولوں کی
ترس جاتے ہیں اس کے ہاتھ اب
گجرے پہنے کو
وہ جس کی بے نیازی سے
کبھی اس شہر کے لوگوں کا کاروبار چلتا تھا
سنا ہے اب وہ اشیا کی
خریداری میں نرخوں پر
دکانداروں سے لمبی بحث کرتی ہے
وہ اک لڑکی جو عکس آلود آئینے سے بھی پرہیز کرتی تھی
سنا ہے اب محلے میں
کسی سستے
بیو ٹی پارلر پر کام کرتی ہے
وہ جس کی
خوش کلامی پر
سخن ہوتا تھا شب بھر
شہر کے سب قہوہ خانوں میں
سنا ہے خامشی کو
آج کل اظہار پر ترجیح دیتی ہے
وہ اک لڑکی جو سر تا پا کبھی پندار کا مینار ہوتی تھی
زرا سے زلزلے سے
ڈھ گئی ہو گی۔۔
شفق زادی عجب رنگوں میں گھر کر رہ گئی ہو گی۔۔
"اظہر فراغ"

Coin Marketplace

STEEM 0.04
TRX 0.32
JST 0.083
BTC 60737.85
ETH 1558.46
USDT 1.00
SBD 0.50