Endurance
برداشت
🌻 صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے‘ وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے‘ روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتاتھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے‘ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے‘ وہاں ان کا بنگالی بٹلرانہیں سگریٹ دینا بھول گیا‘ جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں… جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ’’جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا… ؟
مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے‘‘…
بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی‘ انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا…
🌸 آپ نے رستم زمان گاما پہلوان کا نام سنا ہوگا… ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا‘ ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والاباٹ مار دیا…
گامے کے سر سے خون کے فوارے پھوٹ پڑے‘ گامے نے سرپر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا… لوگوں نے کہا…
’’ پہلوان صاحب آپ سے اتنی کمزوری کی توقع نہیں تھی‘ آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی‘‘…
گامے نے جواب دیا…
’’مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا‘ میری برداشت نے پہلوان بنایا ہے اور میں اس وقت تک رستم زمان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی‘‘.
💦 قوت برداشت میں چین کے بانی چیئرمین ماؤزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے‘ وہ75سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے اوراس وقت پانی کا درجہ حرارت منفی دس ہوتا تھا…
ماؤ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی کا ایک لفظ نہیں بولا…
آپ ان کی قوت برداشت کا اندازا لگائیے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا‘ وہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے لیکن بعدازاں جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو وہ دل کھول کر ہنستے تھے…
🌹 قوت برداشت کا ایک واقعہ ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی سنایا کرتے تھے…
وہ کہتے تھے انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں… ان کی پہلی کامیابی ایک اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی‘ ایک جنگل میں بیس فٹ کے ایک اژدھے نے انہیں جکڑ لیا اور بابر کو اپنی جان بچانے کیلئے اس کے ساتھ بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا…
ان کی دوسری کامیابی خارش تھی…
انہیں ایک بارخارش کا مرض لاحق ہو گیا‘خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے…
بابر کی اس بیماری کی خبر پھیلی تو ان کا دشمن شبانی خان ان کی عیادت کیلئے آ گیا…
یہ بابر کیلئے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ وہ بیماری کے حالت میں اپنے دشمن کے سامنے جائے…
بابر نے فوراً پورا شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی خان کے سامنے بیٹھ گیا‘ وہ آدھا دن شبانی خان کے سامنے بیٹھے رہے‘ پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی…
بابران دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھااورآدھی دنیا کی فتح کو اپنی آدھی کامیابی کہتا تھا…
دنیا میں لیڈرز ہوں‘ سیاستدان ہوں‘ حکمران ہوں‘ چیف ایگزیکٹو ہوں یا عام انسان ہو‘ان کا اصل حسن ان کی قوت برداشت ہوتی ہے…
دنیا میں کوئی شارٹ ٹمپرڈ‘ کوئی غصیلہ اور کوئی جلد باز شخص ترقی نہیں کر سکتا…
دنیا میں معاشرے‘ قومیں اور ملک بھی صرف وہی آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے…
جن میں دوسرے انسان کی رائے‘ خیال اور اختلاف کو برداشت کیا جاتا ہے...
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک‘ ہمارے معاشرے میں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے…
ہم میں سے ہر شخص ہروقت کسی نہ کسی شخص سے لڑنے کیلئے تیار بیٹھا ہے…
شاید قوت برداشت کی یہ کمی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں دنیا میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے ہوتے ہیں لیکن یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کیا ہم اپنے اندر برداشت پیدا کر سکتے ہیں… ؟
اس کا جواب ہاں ہے اور اس کا حل رسول اللہ ﷺ کی حیات طیبہ میں ہے…
⚘⚘ ایک بارایک صحابیؓ نےرسول ﷺ سے عرض کیا…
’’یارسول اللہ ﷺ آپ مجھے زندگی کو پُرسکون اورخوبصورت بنانےکاکوئی ایک فارمولہ بتا دیجئے‘‘…
آپ ﷺ نے فرمایا…
’’غصہ نہ کیا کرو‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا…
’’دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں…
- وہ لوگ جو جلدی غصے میں آجاتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں…
- وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور جلد اصل حالت میں واپس آ جاتے ہیں...
- وہ لوگ جو دیر سے غصے میں آتے ہیں اور دیر سے اصل حالت میں لوٹتے ہیں‘‘...
آپ ﷺ نے فرمایا…
’’ ان میں سے بہترین دوسری قسم کے لوگ ہیں جبکہ بدترین تیسری قسم کے انسان‘‘…
غصہ دنیا کے90فیصد مسائل کی ماں ہے اور اگر انسان صرف غصے پر قابو پا لے تواس کی زندگی کے 90فیصد مسائل ختم ہو سکتے ہیں…
برداشت دنیا کی سب سے بڑی اینٹی بائیوٹک اور دنیا کا سب سے بڑا ملٹی وٹامن ہے…
آپ اپنے اندر صرف برداشت کی قوت پیدا کر لیں تو آپ کوایمان کےسوا کسی دوسری طاقت کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ انسان اکثراوقات ایک گالی برداشت کر کے سینکڑوں ہزاروں گالیوں سے بچ سکتا ہے اور ایک بری نظر کو اگنور کر کے دنیا بھر کی غلیظ نظروں سے محفوظ ہو جاتا ہے…
آج کے بعد آپ کو جب بھی غصہ آئے تو فوراً اپنے ذہن میں اللہ کے رسول ﷺ کے یہ الفاظ لے آئیے…
آپ ﷺ نے فرمایا تھا…
’’غصہ نہ کیا کرو‘‘
اور اعوذ بااللہ پڑھ لیا کرو
مجھے یقین ہے اللہ کے رسول ﷺ کے یہ الفاظ آپ کی قوت برداشت میں اضافہ فرما دیں گے…!!
نماز پابندی سے ادا کیا کیجیے ۔۔
Endurance
🌻 President Ayub Khan was the first military dictator of Pakistan. He used to smoke two big packs of cigarettes daily. He was on a tour of East Pakistan one day. There he forgot to give cigarettes to Bengali butlers. General Ayub Khan got very angry and started abusing Butler. When Ayub Khan got tired of abusing Butler Addressing them, he said, "What will the commander who is not so tolerant run the army?"
I see a bleak future for the Pakistani army and this country. "
Butler's words touched Ayub Khan's heart. He quit smoking immediately and did not touch cigarettes for the rest of his life.
ہوگا You may have heard the name of Rustam Zaman Gamma Wrestler… India has never produced another wrestler like him till date.
Blood gushed from Gamma's head. Gamma wrapped his head in a muffler and returned home quietly. People said.
"Pehlwan Sahib did not expect such weakness from you. If you had slapped the shopkeeper, he would have lost his life."
Gamma replied;
"My strength did not make me a wrestler. My endurance has made me a wrestler and I will remain Rustam Zaman as long as my endurance will support me."
At the age of 75, Mao Zedong, the founding chairman of China, was ahead of all the leaders of his time in swimming.
Mao was an expert in English but he never spoke a word of English all his life.
You can imagine his endurance that he was told a joke in English. He understood the joke but remained silent but later when the translator translated the joke he would laugh heartily.
An incident of endurance was also narrated by Zaheer-ud-Din Babar, the first Mughal king of India.
He said that he had achieved only two and a half successes in his life. His first success was fighting with a dragon. Had to fight
His second success was itching.
He once had an itch. The itching was so severe that he could not wear any clothes on his body.
When the news of Babar's illness spread, his enemy Shabani Khan came to visit him.
It was a place of drowning for Babar to go to his enemy in case of illness.
Babar immediately put on his full royal robe and sat down in front of Shabani Khan.
Babar considered both events as his two great achievements and the victory of half the world as his half success.
Be it leaders in the world, politicians, rulers, chief executives or ordinary people, their real beauty is their endurance.
No short tempered person in the world, no angry person and no hasty person can make progress.
In the world, societies, nations and countries move forward only in those who have the strength to endure.
In which other people's opinions, ideas and differences are tolerated ...
But unfortunately in our country, in our society, tolerance is declining.
Every one of us is ready to fight someone at any time.
Perhaps it is this lack of endurance that has led to the highest number of murders and the highest number of accidents in the world in Pakistan but the question arises here can we create tolerance within ourselves?
The answer is yes, and the solution is in the life of the Messenger of God.
⚘⚘ Once a Companion asked the Messenger
"Messenger of Allah, tell me a formula to make life calm and beautiful."
He said:
"Don't be angry."
He said:
"There are three kinds of people in the world.
- People who get angry quickly and quickly return to their original state;
- People who get angry late and get back to normal soon ...
- People who get angry late and return to their original state late ...
He said:
"The best of them are the second kind of people, while the worst are the third kind of people."
Anger is the mother of 90% of the world's problems and 90% of life's problems can be eliminated if only anger can be controlled.
Endurance is the world's largest antibiotic and the world's largest multivitamin;
If you just create the power of endurance within yourself then you do not need any other power except faith because man can often endure one abuse and escape hundreds of thousands of abuses and ignore one evil look and from the dirty eyes of the world. Gets saved
Whenever you get angry after today, immediately bring these words of Allah's Messenger to your mind.
He said:
"Don't be angry."
And recite Awaz-e-Baallah
I am sure that these words of the Messenger of Allah will increase your endurance.
Pray with restraint.
Nice article